ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / دارالقضاء کورٹ نہیں ہے ، بی جے پی۔آر ایس ایس گھٹیا سیاست کررہی ہے: ظفریاب جیلانی

دارالقضاء کورٹ نہیں ہے ، بی جے پی۔آر ایس ایس گھٹیا سیاست کررہی ہے: ظفریاب جیلانی

Sun, 15 Jul 2018 19:07:22    S.O. News Service

نئی دہلی: 15/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی طرف ہر ضلع میں شریعت عدالت بنانے کے فیصلے کو لے کر ہوئے تنازعہ کے درمیان بورڈکے سکریٹری ظفریاب جیلانی نے اس پر بورڈ کا موقف رکھاہے۔ظفریاب جیلانی نے کہا کہ شریعت بورڈ کوئی کورٹ نہیں ہے۔انہوں نے آر ایس ایس اوربی جے پی پر اس معاملے پر سیاست کرنے کا الزام بھی لگایاہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی شریعت کورٹ کے نام پر سیاست کر رہی ہیں۔ظفریاب جیلانی نے یہ بھی صاف کیا کہ بورڈ نے کبھی بھی ہر ضلع میں شریعت کورٹ بنانے کی بات نہیں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا مقصد ہے کہ اس کی تنصیب وہاں کی جائے، جہاں اس کی ضرورت ہے۔جیلانی نے کہاکہ بورڈ اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ کام کر رہا ہے۔یہ بیداری پھیلانے کے لئے ملک بھر میں ورکشاپ منعقد کرے گا، بورڈ کے اس بیان سے یہ تاثربناہے کہ مسلم سماج کا ایک مختلف عدالتی نظام کی ضرورت ہے۔اس معاملے پر آئین کے ماہر اور نیشنل اکیڈمی لیگل سٹڈیز اینڈ ریسرچ کے وائس چانسلر پروفیسرفیضان مصطفی کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسے تقریباََ100 شرعی پنچایت(دارالقضاء) پہلے سے ہیں۔اب 100 اور کھل جائیں گے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔پروفیسر مصطفی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ دارالقضاء متوازی عدالتی نظام نہیں ہے۔ کورٹ نے کہا ہے کہ یہ نجی غیر رسمی تنازعہ تصفیہ کاطریقہ کار ہے۔ قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کوئی اپنے مسائل کو عدالت کے باہر ثالثی سے حل کر لیں۔ایسانہیں ہے کہ جو لوگ ان میں جاتے ہیں کہ ان کا ملک کے آئین میں یقین نہیں ہے، یا ملک کے قانون نظام میں اعتمادنہیں ہے۔ملک کاآئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ اگرچاہیں تو عدالت کے باہر باہمی صلاح مشورے سے یاکسی کے درمیان تال میل سے حل کروا سکتے ہیں۔ 


Share: